یہ پوچھتا ہے دلِ بے قرار کا موسم

یہ پوچھتا ہے دلِ بے قرار کا موسم
بتاؤ کیسا ہے؟ دریا کے پار کا موسم

چراغ وصل جلاکر تم آگے بڑھ جاؤ
لو آ گیا ہے محبت کا ، پیار کا موسم

مزہ بہار کا برسات میں لیا جائے
چلا گیا ہے اگرچہ بہار کا موسم

خیال اپنے پرائے کا پہلے ہی رکھ لیں
بدلنے والا ہے قرب و جوار کا موسم

خزاں رسیدہ چمن کو بنانے آیا ہے
ہمارے شہر طرف خلفشار کا موسم

بچا کے مال و متاع آپ اپنے رکھ لیجے
پھر آ چکا ہے ادھر لوٹ مار کا موسم

کسی طرح بھی تو اپنا بنا اسے فارِح
ترے ہے ہاتھ لگا اختیار کا موسم

یہ پوچھتا ہے دلِ بے قرار کا موسم
بتاؤ کیسا ہے؟ دریا کے پار کا موسم

فارِح مظفرپوری


لطف آور ہے آج کا موسم

دل کے چین و قرار کا موسم

چاہا تھا قربت کا موسم

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

  1. جاوید احمد خان

    عمدہ کلام

جواب دیں