یہ سب دھواں ہے میاں گلفشار تھوڑی ہے

یہ دو گھڑی کی ہے رونق بہار تھوڑی ہے 

یہ سب دھواں ہے میاں گلفشار تھوڑی ہے 

یہاں خلوص و محبت کا درس ملتا ہے 

یہ مدرسہ ہے کوئی کارزار تھوڑی ہے 

تمہیں بھروسہ نہیں ہے نہ ؟آزما لینا 

ہمارے جیسا کوئی جاں نثار تھوڑی ہے 

وہ حکمران جو ظلم و ستم کے پیکر ہیں 

انہیں پہ زیست کا دار و مدار تھوڑی ہے 

وطن سے پیار ہے کتنا یہ آپ کیا جانیں 

ہمارا درد نہاں آشکار تھوڑی ہے 

سمیر ظلم میں ہر ایک ہے شریک یہاں 

مرا وجود فقط ذمدار تھوڑی ہے 

مبارک سمیر

 


شر پسندوں کی حکومت ہے ذرا دھیان رہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں