یہ سچ ھے کہ بھارت کا ثانی نہیں ھے

حب الوطنی 

فقط میرا دعوی زبانی نہیں ھے 

یہ سچ ھے کہ بھارت کا ثانی نہیں ھے

ھے موسم بہت دلربا اور دلکش

کہیں رت بھی ایسی سہانی نہیں ھے 

ھے یہ کرمہ بھومی ھے یہ پنیہ بھومی

یہاں ایسی ویسی مکانی نہیں ھے 

ذرا دیکھئے گنگا جمنا کا دھارا 

کہیں اس کی جیسی روانی نہیں ھے 

وطن کے لئے جان حاضر ھے اپنی

یونہی یہ جوانی لٹانی نہیں ہے 

چمن کے ہیں پتوں پہ شبنم ہی شبنم

کہیں پر بھی شعلہ فشانی نہیں ھے  

زبانیں یہاں ایک سو سے زیادہ

یہ خوبی ھے یہ یک لسانی نہیں ھے 

ہمارا ھے گنتنتر ہم ہی ہیں حاکم 

کسی ایک کی حکمرانی نہیں ھے 

اسے کہتے ہیں گنگا جمنی کا کلچر

یہ تہذیب ہم کو گنوانی نہیں ھے 

زمیں ہند کی ہم سے یہ کہہ رہی ھے 

کسی سے ہمیں مات کھانی نہیں ھے 

ہمی نے تو ایجاد زیرو کیا تھا

کوئ ہم سا یوں ہیرو گیانی نہیں ھے 

وہ امریکہ ہو یا کہ اسٹریلیا ھو 

کہاں پر ہماری نشانی نہیں ھے ؟

پیمبر نے ہندوستاں کو دعا دی 

یہاں اس لئے بے امانی نہیں ھے 

ہمارے جی ڈی پی کے آگے عدو بھی 

ندامت سے کیا پانی پانی نہیں ھے 

جواں اس کی گودی میں پل کر ہوئے ہم

کہیں اس سے بڑھ کر امانی نہیں ھے 

ہمی تو ہیں حامی یہ نن واولنس کے

حقیقت ھے کوئ کہانی نہیں ھے

زمانے کی خاک ہم نے چھانی ھے” عینی”

کہیں ہند سی ضوفشانی نہیں ھے

از : سید خادم رسول عینی 


ہم کو ہے جاں سے پیارا ہندوستاں ہمارا

ترنگا گھر پہ لگاتے ہیں یوم آزادی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں