جہانِ علم و ادب میں ایسا نصاب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

زبانِ اردو

زبانِ اردو کی نکہتوں کا جواب ڈھونڈو نہیں ملے گا
جہانِ علم و ادب میں ایسا نصاب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

یہ ریختہ بھی یہ ہندَوِی بھی، یہ دہلوی بھی یہ لکھنوی بھی
جو ہندو مسلم کو بانٹ ڈالے وہ باب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

امیر خسرو کا سوز اس میں، ہے سازِ بندہ نواز اس میں
لہو نسوں میں اچھل رہا ہے، جو آب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

ہے لفظ و معنی کی دل کشی بھی، عروجِ فن کی نوید بھی ہے
خطِ منظم ہے آبِ شیریں، سراب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

ولی، سراج اور درد آئے، یہ میر امّن بہار لائے
رفیعِ سودا کی عظمتوں کا حساب ڈھونڈو نہیں ملے گا

یہ بزمِ غالب کی چاندنی ہے، یہ خان مومن کی نازکی ہے
یہ پیرہن کاغذی نہیں ہے، حُباب ڈھونڈو نہیں ملے گا

جنون ہے داغ دہلوی کا، ہے ذوق و اقبال کی محبت
یہی تو ہے میر کی امارت، رُباب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

زباں سمندر، صدف ہیں الفاظ اور موتی جہانِ معنی
ہے رسمِ خط اس کی شکل یارو، نقاب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

جو ہندَوِیْ نام کی زباں تھی وہی ہے زندہ زبانِ اردو
یہ اک چمکتا سا آسماں ہے، حجاب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

ثقافتی حسن آج بھی ہے زبانِ اردو کے رخ پہ تاباں
یہاں اچھلتی ہیں فاختائیں، غُراب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

چمن سجایا ہے اس زباں نے دلوں کی بستی میں اپنے دم پر
یہ جھوٹ کہتی ہے تم سے دنیا، گلاب ڈھونڈو نہیں ملے گا

جو کچھ ہنر آشنا ہے احسن، یہ فیضِ استاذِ محترم ہے
دلوں کے اندر اسی لیے اضطراب ڈھونڈو، نہیں ملے گا

(زبانِ اردو کی نکہتوں کا جواب ڈھونڈو نہیں ملے گا)
(جہانِ علم و ادب میں ایسا نصاب ڈھونڈو، نہیں ملے گا)

توفیق احسن برکاتی
29/ ستمبر 2022ء


 

وفا شناس نگاہوں کو پیار دیتا ہے

کبھی جب دیکھتا ہوں حالِ مسلم

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں